ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پاکستان نے کنٹرول لائن پر پھر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ، 1000لوگ محفوظ نکالے گئے

پاکستان نے کنٹرول لائن پر پھر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ، 1000لوگ محفوظ نکالے گئے

Mon, 15 May 2017 12:43:00    S.O. News Service

جموں ، 14؍مئی (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )پاکستانی فوج نے اتوارکومسلسل دوسرے دن راجوری ضلع میں کنٹرول لائن کے قریب کے علاقوں میں شدید گولہ باری کی جس سے عمارتوں کو بھاری نقصان پہنچا اور سرحدی علاقوں میں رہنے والے 1000لوگوں کو وہاں سے زبردستی نکالاگیا۔ہندوستانی فوج نے پاکستان کی اس حرکت کا مؤثر طریقے سے جواب دیا۔پاکستانی فوج نے کل نوشیرا علاقے میں واقع کنٹرول لائن کے قریب پیشگی چوکیوں پر اور شہری علاقوں میں مارٹر داغے تھے،کل کے حملے میں دو شہری ہلاک ہو گئے تھے جبکہ تین افراد زخمی ہو گئے تھے۔ایک دفاعی ترجمان نے کہاکہ پاکستانی فوج نے راجوری سیکٹر میں کنٹرول لائن کے قریب صبح 6بج کر 45منٹ سے ایک بار پھر چھوٹے ہتھیاروں، 82ملی میٹر اور 120ملی میٹرمارٹر سے اندھا دھند گولہ باری شروع کی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہندوستانی فوج کی چوکیاں مؤثر اور مضبوط طریقے سے جواب دے رہی ہیں، فائرنگ جاری ہے۔راجوری کے ڈپٹی کمشنر شاہد اقبال چودھری نے کہا کہ راجوری کے چٹی بکری علاقے میں جنگ بندی کی حالیہ خلاف ورزی کا واقعہ سامنے آیا ہے۔انہوں نے کہاکہ را جوری کے منجا کوٹ علاقے میں صبح 6 بج کر 20منٹ پرشدید گولہ باری شروع ہوئی،اس میں سات سے زیادہ گاؤں متاثر ہوئے ہیں۔چودھری نے کہا کہ عمارتوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔چودھری نے کہا کہ راحتی کیمپوں میں رہنے والے تارکین وطن کی تعداد میں راتوں رات 978کا اضافہ ہوا، ابھی تک تین گاؤں سے 259خاندانوں کو نکالا جا چکا ہے۔نوشیرا سیکٹر کے 51اسکولوں کو غیر معینہ مدت تک کے لیے بند کردیا گیا ہے، جبکہ منجا کوٹ اور ڈونگی علاقوں کے 36اسکولوں کو تین دن کے لیے بند کردیا گیا ہے، 87اسکولوں میں پڑھنے والے طلباء کی تعداد 4600ہے۔پاکستان کی گولہ باری کے بعد راجوری ضلع میں کنٹرول لائن کے قریب واقع مختلف علاقوں میں سے 1000لوگوں کو نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔چودھری نے کہاکہ حکام اور پولیس نے اپنی جان کو داؤ پر لگاتے ہوئے گولہ باری سے متاثر مختلف گاؤں سے 996لوگوں کے محفوظ نکالا اور ضلع انتظامیہ کی طرف سے قائم کردہ مختلف کیمپوں میں پہنچایا۔ان کیمپوں میں راشن، کھانا پکانے ، پینے کے پانی، صاف صفائی ، بنیادی علاج اور رہنے کے مناسب انتظامات جیسی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب تک تین کیمپ کام کرنا شروع کر چکے ہیں اور متاثرہ گاؤں سے ممکنہ نقل مکانی کو ذہن میں رکھتے ہوئے 28دیگر کیمپوں کونوٹیفکیشن بھیج دیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ زخمیوں کو علاج کے لیے لے جانے کے لیے 6 ایمبولینسوں کو تعینات کیا گیا ہے۔نوشیرا میں ایک موبائل میڈیکل یونٹ کو لگایا گیا ہے اور ایک یونٹ پیشگی علاقوں میں لگائی گئی ہے۔راحتی کیمپوں میں سہولیات کے انتظام کے لیے مختلف محکموں کے تقریبا 120افسران لگائے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ نے مہلوکین کے لواحقین کو اور زخمیوں کو فوری امداد اور اقتصادی مدد فراہم کروائی ہے۔تال میل کے لیے ایس ڈی ایم نوشیرا کے دفتر میں ایک کنٹرول روم بنایا گیا ہے۔گزشتہ ماہ حکومت نے کہا تھا کہ پاکستانی سیکورٹی فورسز نے گزشتہ ایک سال میں 268بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی تھی،ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی نومبر 2003میں نافذ ہوئی تھی ۔


Share: